19 مئی 2011 - 19:30

امریکا نے ایبٹ آباد جیسا آپریشن نہ دہرانے کی دو ٹوک یقین دہانی کرانے سے انکار کردیا۔

ابنا: امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین نے جیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر امریکا کے ساتھ باضابطہ تحریری معاہدے کا مطالبہ نہیں کیا، کولیشن سپورٹ فنڈ کے 8 / ارب ڈالر پاکستان کو دیئے گئےیہ اتنی چھوٹی رقم نہیں کہ حساب کتاب سنجیدگی سے نہ لیا جائے، ڈرون ٹیکنالوجی کی منتقلی یا اہم اہداف پر مشترکہ حملے کرنے کا فیصلہ کرنا ابھی ممکن نہیں، پاکستان کے ساتھ امریکا کے دھمکی آمیز رویے کا تاثر غلط ہے۔ قبل ازیں امریکی خصوصی نمائندے مارک گراسمین نے صدر آصف علی زرداری، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران عسکری قیادت نے امریکی نمائندے پر واضح کر دیا کہ تعلقات کی بہتری کیلئے امریکا کو اقدامات کرنا ہوں گے۔ صدر زرداری نے امریکی نمائندے پر غیر مبہم انداز میں واضح کیا کہ کسی بھی دلیل اور کسی بھی جواز کے ساتھ پاکستان میں ہونے والی یکطرفہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا محض اعتراف کافی نہیں اس کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام بھی لازمی ہے۔ این این آئی کے مطابق عسکری قیادت نے ملاقات میں امریکی نمائندے سے ڈرون حملے بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق امریکا نے مستقبل میں ایبٹ آباد آپریشن کی طرز پر کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرانے سے انکار کردیا ہے ۔ امریکا کے خصوصی نمائندے مارک گراسمین نے دی نیوز اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر عبدالمالک سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کی منتقلی یا حملوں کا فیصلہ مشترکہ طور پر کرنا ابھی ممکن نہیں، پاکستان کے ساتھ آبرو مندانہ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ، امریکا کا پاکستان اور افغانستان سے رویہ الگ الگ نہیں، صدر اوباما نے اپنے بیانات میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کیا، پاکستان کو اب تک کولیشن سپورٹ فنڈز سے 8 / ارب ڈالر دیئے ہیں یہ اتنی چھوٹی رقم نہیں کہ سنجیدگی سے حساب نہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو طاقت اور دھمکیوں سے مرعوب نہیں کرنا چاہتے، پاکستان کے ساتھ دھمکی آمیز رویئے کا تاثر بالکل غلط ہے صدر اوباما پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ قبل ازیں امریکی خصوصی نمائندے مارک گراسمین نے جمعرات کو صدر آصف علی زرداری، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران عسکری قیادت نے امریکی نمائندے پر واضح کر دیا کہ تعلقات کی بہتری کیلئے امریکا کو اقدامات کرنا ہونگے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکی صدر باراک اوباما کے خصوصی نمائندے پر واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہونے کی حیثیت اسی صورت میں برقرار رہ سکتی ہے جب پاکستان کے ملکی مفاد اور قومی جذبات کے تحفظ کو مقدم رکھا جائے گا۔ امریکی نمائندے پر غیرمبہم الفاظ میں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کسی بھی دلیل اور کسی بھی جواز کے ساتھ پاکستان میں ہونے والی یکطرفہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا محض اعتراف کافی نہیں اس کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام بھی لازمی ہے۔ ذرائع کے مطابق حنا ربانی کھر نے امریکی نمائندے کو باور کرایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ امور کے مطابق ایبٹ آباد آپریشن پر پاکستان کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری تھا۔ امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے پاکستان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم کے دورہٴ امریکہ کی منسوخی، افغانستان کی صورتحال سمیت دیگر امور بھی زیربحث آئے۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ایوان صدر میں مارک گراسمین کی ملاقات میں وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے شیخ، وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر اور پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی موجود تھے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر بھی بات چیت میں شریک ہوئے۔ ملاقات میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مارک گراسمین کی جنرل کیانی سے جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد پیدا ہونیوالی بداعتمادی کی لہر ختم کرنے کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ گراسمین نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کو موثر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت